Chief Editor: Ansar Mahmood Bhatti

President Alvi delivers speech amidst opposition uproar

1

ISLAMABAD: President Alvi delivered speech amidst opposition uproar on Thursday.

The opposition started making hue and cry when President Alvi came to deliver his speech.

The opposition parties changed slogans against the government and the Prime Minister and demanded resignation of the prime minister.

The President in his address condemned Indian atrocities in Kashmir and urged the world community to take action againist India.

The President also lauded role of friendly countries such as China and Turkey and hoped they will continue to play their role till the tile of resolution of Kashmir issue.

The President also talked about FATA and termed its merger with federation a welcome step.

He also underlined the need for collaboration for development of country.

He lauded efforts of government during one year which he took for the welfare of people.

text of the speech.

جناب چیئرمین سینیٹ،

اسپیکر قومی اسمبلی،

معززاراکین پارلیمان۔۔۔اور

میرے عزیز ہم وطنو!

             السلام علیکم!

            آج موجودہ حکومت کا پہلا پارلیمانی سال مکمل ہونے پرمیں پورے ایوان کو مبارک باد دیتا ہوں۔ یہ میرا آئینی فریضہ ہے کہ میں حکومت اور پارلیمان کی کارکردگی پر نظر رکھوں اور جہاں ضرورت ہو آئین و قانون کے مطابق اس کی رہنمائی کروں۔ اس چھت کے نیچے عوام کے منتخب نمائندوں کی موجودگی عوام کی امیدوں کا مظہر ہے اور وہ بہت توقعات رکھتے ہیں۔ ہم سب اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اور عوام کی عدالت میں جوابدہ ہیں اور اس کا احساس ہر وقت رہنا چاہیے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اس وطن اوراس کے عوام کی خدمت کرنے کی توفیق دے  تاکہ ہم جب اپنا محاسبہ کریں تو اپنے ضمیر کی عدالت میں بھی سرخروہوسکیں۔

            عزیزانِ وطن!

            گزشتہ دنوں بھارت کی جانب سے مقبوضہ جموں و کشمیر کے حوالے سے کیے گئے اقدامات پر حکومت پاکستان اور عوام نے اپنے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ بھارت نے اپنے غیر قانو نی اور یکطرفہ اقدامات سے نہ صرف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں  اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کی ہے  بلکہ شملہ معاہدے کی روح کو بھی ٹھیس پہنچائی ہے۔ اس سلسلے میں پارلیمان نے اپنے7  اگست 2019  کے مشترکہ اجلاس میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے غیر قانونی اوریک طرفہ اقدامات کی متفقہ طور پر شدید مذمت کی۔ حکومت نے بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں کمی، تجارت معطل کرنے، دوطرفہ تعلقات کا ازسرِ نو جائزہ لینے اور مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل اور دیگر بین الاقوامی اداروں میں بھرپور طریقے سے اٹھایا ہے۔

          خواتین و حضرات!

            یہ پاکستان کی بہت بڑی سفارتی کامیابی ہے کہ 50  سال بعد  مسئلہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے خصوصی اجلاس میں زیرِبحث لایا گیا  خصوصاًجب بھارت اسے روکنے کے لیے ایڑی چوٹی کا زورلگا رہا تھا۔ مسئلہ کشمیر پر دہائیوں بعد  سلامتی کونسل کے اجلاس میں گفت وشنیداس بات کی عکاسی ہے  کہ  کشمیر بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں  بلکہ ایک عالمی تصفیہ طلب مسئلہ ہے جس کے حل کے لیے عالمی برادری  خصوصاً اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو اپنا بھرپورکردار ادا کرنا ہوگا، ورنہ یہ مسئلہ علاقائی و عالمی امن کے لیے شدید خطرے کا سبب بن سکتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ اسلامی تعاون تنظیم (OIC) نے کشمیر میں بھارت کی جانب سے کیے جانے والے غیرقانونی  اور جارحانہ اقدامات کی شدید مذمت کی ہے  اور مطالبہ کیا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں ہر قسم کی پابندیوں کا فی الفور خاتمہ کیا جائے اور اس دیرینہ تنازعے کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کیا جائے۔اس کے علاوہ اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے بھی اس معاملے پر 58 ممالک کی حمایت سے مشترکہ بیان جاری کیا ہے جس میں بھارت سے یہ مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ مقبوضہ جموں و کشمیر میں تمام پابندیوں کو فوری طور پر ختم کرے ۔  یہاں ہم ان تمام دوست ممالک کا بھی شکریہ اداکرتے ہیں جنہوں نے کشمیر کے مسئلے کی سنگینی کو سمجھتے ہوئے سلامتی کونسل کے اجلاس کے کامیاب انعقاد میں اپنا کردار ادا کیا۔اس ضمن میں ہم چین کی کوششوں کا تہہ دل سے شکریہ ادا کرتے ہیں۔

          معزز اراکینِ پارلیمان!

            میں وزیراعظم پاکستان کے کامیاب امریکی دورے کے دوران صدر ٹرمپ کی توجہ مقبوضہ کشمیرکی طرف مبذول کرانے کو سراہتا ہوں اورپاکستان امریکہ کی مقبوضہ کشمیر کے منصفانہ اور دیرپا حل کے لیے ثالثی کی ہر کوشش کا خیرمقدم کرے گا۔

          خواتین وحضرات!

            نو لاکھ بھارتی فوجیوں کی موجودگی کی وجہ سے مقبوضہ جموں و کشمیر اس وقت دُنیا کا سب سے زیادہ   Militarized Zone ہے۔بھارت جابرانہ ہتھکنڈے استعمال کرکے کشمیریوں کی آواز سلب کر رہا ہے۔ آج بھارت کی سیکولرزم اور جمہوریت RSS کی جنونیت کی نذر ہو رہی  ہے۔ بھارت کو ہندو نسل پرست نظریے اور فاشسٹ سوچ کے حامل لوگوں نے ایسے یرغمال بنایا ہے جیسے نازیوں اور نازی ازم نے جرمنی کو بنایا تھا۔ نوے لاکھ کشمیریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہو چکے ہیں۔ میں اقوامِ متحدہ سے اپیل کرتا ہوں کہ کشمیر میں اپنے مبصرین بھیج کر موجودہ مخدوش حالات کے صحیح تناظر کو واضح کرے۔

            حالیہ مہینوں میں مقبوضہ جموں و کشمیر میں ایک لاکھ اسی ہزار (180000) مزیدفوجیوں کی تعیناتی شدید تشویشناک ہے۔ غاصب بھارتی افواج قتل و غارت گری، تشدد، غیر قانونی گرفتاریوں، پیلٹ گن کے استعمال اور کشمیری خواتین کی عصمت دری جیسے درندانہ اور سفاکانہ جرائم کے ذریعے کشمیریوں کے انسانی حقوق کی دھجیاں اڑا رہی ہے۔ بھارت کی انتہا پسندقیادت مقبوضہ جموں و کشمیر کا آبادیاتی ڈھانچہ مسخ کرنے پر تلی ہوئی ہے اور یہ مقبوضہ کشمیر میں نسل کشی جیسی انسانیت سوز پالیسی کو اپناتے ہوئے یوگوسلاویہ میں کی گئی انسانی حقوق کی پامالی کی تاریخ کو دہرا نے کے درپے ہے۔ آج اگر دُنیا نے بھارت کی کشمیر میں ممکنہ نسل کشی کا نوٹس نہ لیا تو مجھے ڈر ہے کہ عالمی امن ایک بہت بڑے بحران کا شکار ہوجائے گا۔

            پاکستان بھارت پر واضح کر دینا چاہتا ہے کہ مظلوم کشمیریوں کی نسل کشی قطعاً برداشت نہیں کی جائے گی۔ میں پارلیمان کے اس پلیٹ فارم سے عالمی برادری پر یہ واضح کر دینا چاہتا ہوں کہ اس سلسلے میں کسی بھی قسم کی چشم پوشی عالمی امن و استحکام کے لیے شدید خطرے کا باعث ہوگی۔

          خواتین وحضرات!

            پاکستان اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت کرتا ہے۔اس سلسلے میں پوری پاکستانی قوم اپنے کشمیری بہن بھائیوں کے ساتھ کھڑی ہے اور اس وقت تک ان کی سیاسی، سفارتی اور اخلاقی مدد کرتی رہے گی جب تک انہیں حق خودارادیت نہیں مل جاتا۔ ہم کسی موڑ پر انہیں تنہا نہیں چھوڑیں گے۔    ہم ان کے ساتھ تھے، ساتھ ہیں اور ہمیشہ ساتھ رہیں گے۔   

خواتین و حضرات!

            بھارت مسلسل لائن آف کنٹرول کے پار غیر مسلح شہری آبادی پر بلا اشتعال فائرنگ اور  گولہ باری سے جنگ بندی معاہدوں کی خلاف ورزی کررہا ہے۔ گزشتہ برس پاکستان نے     UNMOGIP کو متعدد بار بھارت کی جانب سے کی گئی LOCکی خلاف وزریوں کے بارے میں بتایا۔ بھارت کی غیر ذمہ دارانہ اور جارحانہ کارروائیوں سے جنوبی ایشیاء میں امن، سلامتی اور استحکام کو شدید خطرہ لاحق ہے۔ ہم اب بھی بھارتی حکمرانوں سے کہتے ہیں کہ وہ ہوش کے ناخن لیں اور حالات کو اس نہج تک نہ لے جائیں جہاں سے واپسی ممکن نہ ہوسکے۔

پاکستان نے ہمیشہ بھارتی جنگی جنون کا جواب صبروتحمل سے دیا اور بارہا یہ یاددہانی کرائی کہ ہماری امن کی خواہش کو ہماری کمزوری نہ سمجھا جائے۔پلوامہ کا واقعہ رونما ہوا تو بھارت نے بغیر کسی ثبوت کے واقعہ کا ذمہ دار پاکستان کو ٹھہرانا شروع کردیا تھا۔ اس وقت بھی وزیرِ اعظم پاکستان نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کی تھی اور بھارت سے ثبوت مانگے تھے، مگر بھارت نے پاکستانی سرحدوں پر اشتعال انگیزی شروع کردی جس کے نتیجے میں پاکستانی فضائیہ نے شاندار جرأت کا مظاہرہ کرتے ہوئے دراندازی کرنے والے طیاروں کو مار گرایا۔ ہماری حدود میں گرنے والے طیارے کے پائلٹ کو حراست میں لے لیا گیا۔ وزیراعظم عمران خان نے اگلے ہی روز پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس کے دوران جذبہ خیر سگالی کے تحت بھارتی پائلٹ کی رہائی کا اعلان کیا جسے دُنیا بھر میں سراہا گیا۔

            معزز اراکینِ پارلیمان!

            بھارت، ہمیشہ پاکستان کے اندر تخریبی کارروائیوں میں ملوث رہا اور وطن عزیز میں دہشت گردی کی سرپرستی کرتا رہا۔ اس کی ایک مثال کمانڈر کلبھوشن یادیوکی گرفتاری کی صورت میں سامنے آئی جسے پاکستان نے مارچ 2016ء میں بلوچستان سے گرفتار کیا، جس نے اعتراف کیا کہ وہ انڈین نیوی کا حاضر سروس افسر ہے اور بلوچستان میں اس کی آمد کا مقصد بھارتی معاونت کے ساتھ تخریب کاری اور دہشت گردی پھیلانا تھا۔ ان سنگین جرائم کی پاداش میں پاکستان کی ایک فوجی عدالت نے کمانڈر کلبھوشن یادیو کو موت کی سزا سنائی  تو بھارت یہ معاملہ عالمی عدالت میں لے گیاجس نے بھارت کی جانب سے کلبھوشن کی بریت، رہائی اور واپسی کی استدعا کو یکسر مسترد کر دیا۔

          خواتین و حضرات!

            دُنیا کو اس بات کا ادراک کرنا ہوگا کہ بھارت پر آج ہندو انتہاپسندانہ سوچ نے اپنا غلبہ قائم  کر لیا ہے۔ دُنیا کو ان فاشسٹ پالیسیوں کے خلاف مزاحمت کرنی ہوگی۔  RSS کی مذہبی جنونیت کی وجہ سے مہاتما گاندھی اور جواہر لال نہرو کا ہندوستان آج بہت تیزی سے اپنی ہیئت بدل رہا ہے۔ یہ حقیقت ہندوستان میں بسنے والی اقلیتوں اور معتدل سوچ کے حامل افراد کے لئے کسی آفت سے کم نہیں۔ ہم سمجھتے ہیں کہ بھارت میں رونما ہونے والے واقعات نے ایک مرتبہ پھر بانیانِ پاکستان کی بصیرت اور دو قومی نظریے کی اہمیت کو مزید اجاگر کر دیا ہے۔

            پاکستان کے حصول کا مقصد ایک ایسی مثالی ریاست کا قیام تھا جہاں انصاف، رواداری اور مساوات کے اصولوں کے مطابق ہر شہری کو مکمل آزادی حاصل ہو۔ ریاستِ مدینہ انہی اصولوں کا عملی نمونہ تھی اور مفکر ِ پاکستان علامہ محمد اقبال کے خواب اور بانئ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کی جدوجہد کا مطمع نظر بھی ایک ایسی ہی ریاست کا قیام تھا۔

          خواتین و حضرات!

            اسلام میں مسجد کی بڑی اہمیت ہے اور یہ صرف پانچ وقت نماز کی ادائیگی کا مقام ہی نہیں بلکہ اسے سماج میں افراد کی اصلاح و تربیت اوراصلاح باطن و تزکیہ نفس کے مرکز کے طور پر استعمال کیا جاتا رہا ہے، اس کی زندہ مثال خود مسجد نبویؐ ہے۔آج بھی معاشرے کی اصلاح کے لیے مسجد و منبر رسولؐ بہترین فورم ہے۔علمائے کرام کو چاہیے کہ وہ آگے بڑھیں اور معاشرتی اور سماجی برائیوں کے خلاف اپنا کردار ادا کریں۔ میں نے اسلامی نظریاتی کونسل سے بھی درخواست کی ہے کہ وہ مسجد کے منبر کے مؤثر استعمال کے ذریعے عورتوں کے وراثتی حقوق، طہارت اور صفائی، Water Conservation،  ماحول اور شجرکاری اور انسانی صحت کے متعلق لوگوں میں آگاہی پیدا کریں۔

 

خواتین و حضرات!

            وزیراعظم جناب عمران خان نے اپنے پہلے خطاب میں پاکستان کو ریاست مدینہ کا رول ماڈل بنانے کا تصور پیش کیا تھا۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کی سیاسی، معاشرتی و معاشی ترقی اور استحکام اسی سوچ سے وابستہ ہے۔

            حضور اکرم  ﷺ نے جب مدینہ کی طرف ہجرت کا قدم اٹھایا تو اس کے پس منظر میں اسی اجتماعی سماجی نظام کا تعارف اور نفاذ تھا۔میرے نبی  ﷺ کے مثالی طرز حکمرانی نے داخلی و خارجی سطح پر بکھرے یثرب کو دُنیا کی بہترین اسلامی فلاحی ریاست میں تبدیل کر دیا۔مدینہ کی ریاست کا جو نقشہ اللہ کے رسول کی زندگی میں ہمارے سامنے آیا اْس کو پیش نظر رکھ کر باآسانی   یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انسانی حقوق کا پہلا چارٹر دینے والی ریاست، ریاست مدینہ تھی۔

          معزز اراکین پارلیمان!

            موجودہ حکومت روز اول سے ہی ملک کی ترقی اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو عملی جامہ پہنانے کے لیے پالیسیوں کی تشکیل اور ان پر عمل درآمد کے سلسلے میں مصروفِ عمل ہے۔ ایک سال کی قلیل مدت میں کابینہ کے پچاس سے زائد اجلاس ہوئے ہیں جو بذاتِ خود اِس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ یہ حکومت اپنے فرائض کی انجام دہی کے لیے فعال اور متحرک ہے۔مجھے خوشی ہے کہ وزیراعظم پاکستان ذاتی دلچسپی لے کر ہر وزارت کی کارکردگی پر خود نظر رکھے ہوئے ہیں۔

            وزیرِاعظم کی خصوصی ہدایت پر”پاکستان سٹیزن پورٹل”  کا اجراء کیا گیا جس سے عوام کو اپنی شکایات براہِ راست متعلقہ حکام تک پہنچانے اور اُن کے جلد سے جلد حل میں بے پناہ سہولت ملی ہے۔ میں چاہوں گا کہ اس نظام کو مزید فعال بنایا جائے تاکہ ملک میں گڈ گورننس اور عوام کی فلاح و بہبود کو یقینی بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ کابینہ کے ان فیصلوں کو بھی سراہا جانا چاہیے جو کفایت شعاری کے سلسلے میں کیے گئے ہیں۔

 

 

          خواتین وحضرات!

میں یہاں  حکومت کی انفارمیشن ٹیکنالوجی پالیسی کا تذکرہ کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔انفارمیشن ٹیکنالوجی کا استعمال حکومتی معاملات میں شفافیت لانے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ ہم آئی ٹی کی مقامی مارکیٹ کو ترقی دیے بغیر دُنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر نہیں چل سکیں گے۔میں اس بات پر بھی زور دینا چاہوں گا کہ معیشت کی ترقی اور استحکام کے لیے ضروری ہے کہ ہم Technology Driven Knowledge Economy اور IT کو اپنی پالیسیوں میں خاص توجہ دیں تاکہ پاکستان چوتھے صنعتی انقلاب میں ترقی یافتہ اقوام کے شانہ بشانہ کھڑا ہوسکے۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو Computer Languages کا ادراک اور انھیں Artificial Intelligence،  Internet of Things،  Cloud Computingاور Blockchain جیسے جدید علوم سے روشناس کرانا ہوگا۔

          معزز اراکین پارلیمان!

            اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ وطن عزیز کا مستقبل صرف جمہوریت سے وابستہ ہے۔ جمہوری اداروں کا استحکام اور وفاقی اکائیوں کی مضبوطی سے ہی پائیدار جمہوریت فروغ پا سکتی ہے۔ قبائلی علاقہ جات میں ہونے والے انتخابات سے ملک میں جمہوری عمل ایک قدم اور آگے بڑھا ہے۔ ان علاقوں کی خیبر پختونخوا میں انضمام سے انہیں ملکی ترقی کے مرکزی دھارے میں شمولیت کا موقع ملے گا۔ حکومت نے فاٹاکی تعمیر وترقی کے لیے خطیر رقم مختص کی ہے۔یہ رقوم کامیاب جوان، کم لاگت مکانوں کی تعمیر،    صاف وسر سبز پاکستان، صحت انصاف کارڈ اور بلین ٹری سونامی کے علاوہ ہیں۔اس سے قبائلی عوام کے معیارزندگی کو بہتر بنانے میں مدد ملے گی۔

          خواتین و حضرات!

            معاشی اعتبار سے وطن عزیز اس وقت تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے۔ حکومت کو کرنٹ اکاؤنٹ اور بجٹ خسارہ اور گردشی قرضے ورثے میں ملے۔ ملکی قرضے بھی انتہائی حدود سے زیادہ تھے۔ ملکی معیشت تباہی کے دہانے پر تھی۔ ہمارے محصولات کاایک بڑا حصہ قرضوں کی ادائیگی میں صرف   ہو جاتا ہے اور ترقیاتی کاموں کے لیے خاطر خواہ وسائل نہیں بچتے۔

            یہ بات اہم ہے کہ پچھلے مالیاتی سال کی نسبت درآمدات میں کمی اور برآمدات میں اضافے کی وجہ سے“Current Account Deficit” میں خاطر خواہ کمی ہوئی ہے۔     اس کے ساتھ ساتھ ترسیلاتِ زر میں اضافہ ہوا ہے اور ہمارے  “Foreign Exchange Reserves”بھی بڑھے ہیں۔

            پاکستان2015ء میں “Millennium Development Goals” کے اہداف پورے نہ کر سکا۔ میں یہاں اس بات پر زور دینا چاہوں گا کہ اب Sustainable Development Goals (SDGs)  کے اہداف کا حصول اور عام آدمی تک ان کے ثمرات کو پہنچانا ہمارا قومی فریضہ ہے۔ میں تمام متعلقہ اداروں سے توقع کرتا ہوں کہ وہ ایک مربوط حکمت عملی کی بدولت SDGs) ( کے اہداف کے حصول کی جانب مثبت پیش رفت کو یقینی بنائیں گے۔

             سمگلنگ  کسی بھی قوم کی معیشت کو دیمک کی طرح کھا جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ بین الاقوامی تعلقات میں بھی مشکلات پیدا کرتی ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت معیشت سے وابستہ تمام کاروبارِ زندگی کی ڈاکومنٹیشن(Documentation) کرکے حکومتی دائرہ اختیار میں لائے اور سمگلنگ کی لعنت کا قلع قمع کرے۔

گزشتہ ادوار میں ذاتی مفادات کی جنگ میں کرپشن کا بازار گرم رہا ہے اور غیر منصفانہ فیصلے کیے گئے۔ احتساب کے اصول کو بالائے طاق رکھتے ہوئے حکمرانوں نے ملکی معیشت کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا۔ یہی وجہ ہے کہ معیشت کو جدید اصولوں پر استوار نہیں کیا جا سکا اور اس کا ایک بڑا حصہ Black Economy کی نذر ہوگیا جس کے اثرات کا ہم آج تک خمیازہ بھگت رہے ہیں۔

             ان بے شمار چیلنجز سے نمٹنے کے لیے حکومت کو 2019-20 کے بجٹ میں مشکل فیصلے کرنے پڑے۔ ٹیکس نظام میں اصلاحات جیسے سخت اقدامات معیشت کی بہتری کے لیے اہم ہیں۔ FBRکی جانب سے نئے ٹیکس گزاروں کو ٹیکس کے دائرے میں لانے اور ٹیکس کی شرح میں اضافے کے لیے اصلاحات کی گئی ہیں جو ملکی معیشت کے استحکام کے لیے انتہائی اہم ہیں۔ ان اقدامات کی وجہ سے انکم ٹیکس گوشوارے جمع کرانے والوں کی تعداد میں بہت اچھا اضافہ ہوا ہے۔ یہ ایک Continuous Process  ہے اور اسے جاری رہنا چاہیے۔اس کے علاوہ  میں چاہتا ہوں کہ  FBR میں اصلاحات لائی جائیں ،ٹیکس گوشواروں کے نظام کو مزید عام فہم بنایا جائے اور ٹیکس گزاروں کے لیے آسانیاں پیدا کی جائیں۔

          خواتین و حضرات!    

            پاکستان میں سرمایہ کاری کے وسیع تر مواقع موجود ہیں۔ ہماری ترقی و خوشحالی میں تجارت اور سرمایہ کاری کی اہمیت اور ضرورت سے انکار ممکن نہیں۔ ملک میں سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی اور تجارت کے فروغ کے لیے آسان اور قابل عمل پالیسیوں کی تشکیل ایک اہم قدم ہے۔ متعدد ممالک پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں اس ضمن میں مختلف منصوبوں پر کام شروع بھی ہو چکا ہے۔یہ بات خوش آئند ہے کہ Ease of Doing Business Index میں پاکستان کی درجہ بندی میں کئی درجے بہتری آئی ہے اور امید ہے کہ اس میں مزید بہتری آئے گی۔ یہ سہولت صرف بیرونی سرمایہ کاروں کے لیے ہی نہیں بلکہ اندرونی سرمایہ کاری کے لیے بھی ضروری ہے۔

          عزیز ان وطن!

            کسی بھی ملک کی ترقی میں اداروں اور سول سروسز کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ قیامِ پاکستان سے موجودہ دور تک ہمارے سول افسران نے نامساعد حالات کے باوجود “Public Service Delivery” اور ملک کی تعمیر و ترقی کے لیے بے پناہ خدمات انجام دی ہیں۔تاہم موجودہ حکومت نے اداروں کو جدیدخطوط پر استوار کرنے کے لیے “Institutional Reforms” کے عمل کا آغاز کر دیا ہے۔ میں چاہوں گا کہ جلد از جلد اس اہم کام کو پایہ تکمیل تک پہنچایا جائے ۔

            بدعنوانی کسی بھی معاشرے کی جڑیں کھوکھلی کرکے اسے تباہ وبرباد کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ بدقسمتی سے وطن عزیز میں یہ لعنت بری طرح پھیل چکی ہے۔ ملکی خزانے اور وسائل کو لوٹنے والوں کا احتساب جاری ہے۔ یاد رکھیے کہ معاشرہ پاک اور صاف ستھرا ہوگا تو اخلاقی اعتبار سے ہم اپنی شاندار قومی روایات کو زندہ رکھنے اور خود کو اقوامِ عالم میں سربلند رکھنے کے قابل ہوسکیں گے۔

           معزز اراکین پارلیمان!

            ایک اور مسئلہ جس کی سنگینی کی طرف ہماری توجہ ضروری ہے۔ وہ آبادی میں تیز رفتار اضافہ ہے جو ملکی وسائل پر دباؤ کا باعث ہے۔ میری حکو مت کو تاکید ہے کہ اس جانب فوری توجہ دے اور عوام میں اس سلسلے میں شعور بیدار کرنے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے۔ اس ضمن میں ذرائع ابلاغ پر بھرپور آگاہی مہم مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔ علمائے کرام، سیاسی و سماجی قائدین کے ساتھ ساتھ سول سوسائٹی کی شمولیت سے عوام کو آبادی کے پھیلاؤ کے منفی اثرات سے آگاہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی تناظر میں، میں اس بات پر بھی آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں کہ اولاد میں وقفہ نہ ہونے کی وجہ سے ماں کی Mal-nutrition   اور بچوں کی Stunting بھی ہو رہی ہے۔ یہاں میں حکومت کو ہدایت کرنا چاہتا ہوں کہ وہStunting  اور Mal-nutritionکی طرف بھی خصوصی توجہ دے۔

          خواتین و حضرات!

            زراعت ملکی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔ حکومت نے اس شعبے کی اہمیت     کو مدنظر رکھتے ہوئے بنیادی نوعیت کی اجناس گندم، چاول اور گنے کی پیداوار بڑھانے کے لیے      “Prime Minister’s Agriculture Emergency Program” کا آغاز کیا ہے۔اس پروگرام کے تحت “National Oilseeds Enhancement Program”،آبی ذخائر کے تحفظ اور بہتر استعمال، ماہی گیری کا فروغ ، چھوٹے اور درمیانے درجے کی لائیو سٹاک فارمنگ، مرغ بانی اور زیتون کی کاشت کو تجارتی پیمانے پر فروغ دینے میں مدد ملے گی۔اس شعبے کی ترقی کے لیے زرعی ادویات، کھاد اور دیگر زرعی سازو سامان کی کاشت کار کو مناسب قیمت پر فراہمی کے لیے ایک مؤثر اور جامع پالیسی کے ساتھ ساتھ اجناس کی منڈی تک رسائی کو آسان اور یقینی بنانا ازحد ضروری ہے۔ مجھے امید ہے کہ حکومت اس جانب بھی اپنی توجہ مرکوز رکھے گی۔

          معزز اراکین!

            کسی بھی ریاست کی یہ بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ بنیادی انسانی حقوق کا ہر ممکن خیال رکھے۔ شہریوں کے جان ومال، عزت وآبرو کی حفاظت، تعلیم وصحت، اور فوری انصاف کی بلاتعطل فراہمی بہتر طرز حکومت کی علامت ہیں۔ ہم نے پاکستان کو   ایک فلاحی ریاست بنانا ہے، جہاں روزگار،محروم طبقے کی صحت، تعلیم، وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انصاف کی سہولیات مہیاہو سکیں۔ جلد اور آسان انصاف کی   فراہمی ریاستِ مدینہ کی طرف ایک اہم قدم ہے۔ اس ضمن میں:

  Code of Civil Procedure (Amendment) Bill٭

  Legal Aid and Justice Authority Bill٭

  Letters of Administration and Succession Certificate Bill٭

 Whistleblower Protection and Vigilance Commission Bill٭

 Enforcement of Women’s Property Rights Bill ٭

 Mutual Legal Assistance Bill٭

جو کہ ابھی مختلف مراحل میں ہیں، انتہائی اہم قانونی اقدامات ہیں۔ میری پارلیمنٹ سے درخواست ہوگی کہ ان قوانین کو جس قدر جلد ہوسکے منظور کرے تاکہ لوگوں کو فوری انصاف مہیا کرنے میں مدد مل سکے۔ اس موقع پر میں عدلیہ کے کردار کو بھی سراہنا چاہوں گا۔ پچھلے کچھ عرصہ میں ہماری عدالتوں نے دہائیوں سے زیر التوا مقدموں کو سرعت سے نمٹایا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ Model Courts کے اجراء کا فیصلہ قابلِ ستائش ہے جس سے عوام کو فوری اور سستا انصاف میسر کرنے میں مدد ملے گی۔

            موجودہ حکومت نے “ احساس پروگرام” کا آغاز کیا ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس پروگرام کی خود نگرانی کر رہے ہیں۔یہ پروگرام اپنے حجم کے اعتبار سے سوشل پروٹیکشن کا سب سے مؤثر پروگرام ثابت ہوگا۔ “Poverty Alleviation and Social Safety” کی وزارت اپنے اندر بڑی وسعت رکھتی ہے۔ اس وزارت کے تمام فلاحی پروگرام ملکی آبادی کے اُن طبقات کے لیے مددگار ثابت ہوں گے جن کی آمدنی کم ہے اور جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ میں حکومتِ وقت کو ہدایت کرتا ہوں کہ اس پروگرام میں شفافیت کے عمل کو  یقینی بنا ئے۔

          خواتین و حضرات!

            وزیراعظم کے ویژن کے مطابق خواتین کو با اختیار بنانے کے لیے  “احساس پروگرام میں خواتین کو برابر کی شراکت دی جا رہی ہے۔حکومت کےگزشتہ پروگرام جو اس سلسلے میں شروع کیے گئے تھے،اُن میں مزید بہتری لانے کی کوشش  جاری  ہے جس سے اس میں شفافیت لانے اورخامیوں کو دور کرنے میں مدد ملے گی۔ ضروری ہے کہ حکومت اس پروگرام کو توسیع دیتے ہوئے ملک کے دوردراز علاقوں میں آباد محروم طبقات تک اس کے ثمرات کو یقینی بنائے۔ ہمیں خواتین کو معاشرہ میں با وقار بنانا ہوگا تاکہ وہ پورے کنبہ کو ملک و قوم کے لئے مفید اور باعثِ فخر بنانے میں اپنا مثالی کردار ادا کر سکیں۔

            میں اس بات پر بھی زور دینا چاہتا ہوں کہ خواتین کو معاشرے میں اپنا صحیح مقام دلانے کے لیے ان کے وراثتی حقوق کا تحفظ انتہائی ضروری ہے۔ ہمیں اس سلسلے میں قانون سازی اور عملی اقدامات کے ذریعے خواتین کے وارثتی حقوق کو یقینی بنانا ہوگا۔

          خواتین وحضرات!

            کوئی بھی معاشرہ اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتا جب تک اس کے افراد صحت مند نہ ہوں۔ یہ صحت جسمانی اور ذہنی ہر دو لحاظ سے اہمیت کی حامل ہے۔ اس سلسلے میں موجودہ حکومت نے بھرپور توجہ دیتے ہوئے “صحت سہولت پروگرام” کا آغاز کیا ہے جس کے تحت “صحت انصاف کارڈ” کا اجرا کیا گیا ہے۔ اس اسکیم کے تحت ڈیڑھ کروڑ خاندان صحت کی مفت سہولیات حاصل کرسکیں گے اور ملک بھر میں متعدد سرکاری و نجی ہسپتال اس کارڈ کی سہولت کے تحت مفت علاج فراہم کریں گے۔ وزیر اعظم کا “National Programme for Prevention and Control of Hepatitis-C” ایک انتہائی اہم کاوش ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اس پروگرام کو ایک جامع انداز میں ملک کے کونے کونے میں پھیلایا جائے گا تاکہ ہمیں اس موذی مرض سے چھٹکارا مل سکے۔

            موجودہ حکومت کی جانب سے بے گھر افراد کے لیے پناہ گاہوں کا قیام ایک انتہائی قابلِ ستائش قدم ہے۔میں چاہوں گا کہ اس طرح کے فلاحی منصوبوں کو ملک کے کونے کونے تک پھیلایا جائے۔ اسی طرح بے گھر افراد کے لئے سستے اور آسان شرائط پر گھروں کی دستیابی حکومت کا انقلابی قدم ہے۔ وزیراعظم پاکستان اس سلسلے میں مختلف منصوبوں کا افتتاح کر چکے ہیں۔ مجھے پوری امید ہے کہ یہ منصوبے تیز رفتاری سے تکمیل کی جانب بڑھیں گے۔

          معزز اراکینِ پارلیمان!

             کوئی بھی ملک اس وقت تک ترقی نہیں کر سکتا جب تک وہ تعلیم میں سرمایہ کاری نہ کرے۔ دُنیا میں انہی قوموں نے ترقی کی جنہوں نے تعلیم کے شعبہ پر توجہ دی۔ حکومت نے ملکی ترقی میں تعلیم کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے قومی تعلیمی پالیسی فریم ورک کی تیاری میں تمام مکاتب فکر کو اعتماد میں لیا ہے۔    یہ ایک احسن قدم ہے۔

            NAVTTC    اور دیگر اداروں کو مزید فعال بنایا جا رہا ہے تاکہ تکنیکی و پیشہ ورانہ تربیت کے معیار کو بہتر بنایا جا سکے۔ اس کے لئے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے بھی معاونت حاصل کی جا رہی ہے۔ میں توقع کرتا ہوں کہ حکومت اس سلسلے میں ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔

         خواتین وحضرات!

            پاکستان کا نوجوانوں کی آبادی کے لحاظ سے ایشیا کے بڑے ممالک میں شمار ہوتا ہے۔ ہماری آبادی کا 60 فیصد سے زائد حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ بے شک ہماری قوم کا مستقبل انہی­­­­­ کے ہاتھ میں ہے۔ اس ضمن میں وزیرِ اعظم کے   “ کامیاب جوان پروگرام” کے تحت مختلف منصوبوں پر کام جاری ہے۔ایک اور خوش آئند بات یہ بھی ہے کہ Forbes کے مطابق دُنیا کی دس تیز ترین بڑھتی ہوئی    ”  “Software Freelance Markets میں پاکستان اس سال 47 فیصد Growth  کے ساتھ چوتھے نمبر پر ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم اپنے نوجوانوں کو ان ابھرتے ہوئے موقعوں کے لیے تیار کریں تاکہ وہ باوقار روزگار کمانے کے ساتھ ساتھ ملکی ترقی میں اپنا بھرپور کردار ادا کرسکیں۔

            بیرونِ ملک مقیم پاکستانی ہمارا قیمتی اثاثہ ہیں۔ حکومت نے ان کی سہولت اور آسانی کے لیے خاطر خواہ اقدامات کیے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ جلد  از جلد Banking Channel سے رقوم بھیجنے کی راہ میں حائل چند باقی رکاوٹوں کو دور کیا جائے تاکہ ترسیلاتِ زر کو بڑھایا جا سکے۔ Digital Payment  اور  Digital Wallet کا اہتمام کیا جائے تاکہ ہر فرد اپنے فون کے ذریعے چھوٹی سے چھوٹی Payment کرسکے۔اس سے Documentaion میں بھی آسانی ہوگی






Comments are Closed